4

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ: مفاہمتی یادداشت کو غیرمؤثر کہنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، سندھ طاس معاہدے کی پابندی لازمی ہے، ترجمان

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مفاہمتی یادداشت کو مردہ یا غیر مؤثر قرار دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ امن کا فریم ورک بدستور موجود ہے اور پاکستان پرامید ہے کہ تمام فریقین بالآخر بات چیت اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔ امریکہ ایران کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے ہونے والے مسلح حملوں اور جوابی کارروائیوں کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور ناپسندیدہ ہے، پاکستان اس کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پوری خلوص نیت سے امن عمل میں مصروف ہے، اس لیے اسے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی ناکامی قرار دینا درست نہیں۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کیے جانے سے سندھ طاس معاہدے کے تحت اس کی قانونی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو جاتیں، اور پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی طرف واپس آئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یکطرفہ طرزِ عمل بین الاقوامی قوانین اور عالمی تنازعات کے طے شدہ نظام پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں سرحد پار پانی کے انتظام کے حوالے سے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت کی جانب سے حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف مقدمے اور سزا کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا اور عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔