5

گومل یونیورسٹی کے نجی ملحقہ کالجوں کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں، جامع تحقیقات اور ایچ ای سی سے تصدیق کا فیصلہ

پشاور: ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی  کے ریکارڈ جائزے اور فزیکل انسپکشن کے دوران گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجوں کے تعلیمی نظام میں سنگین بے ضابطگیوں اور تضادات کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی کالجوں کے داخلوں، رجسٹریشن، انرولمنٹ، طلبہ کی حاضری اور امتحانات کے ریکارڈ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کے بعد محکمہ ہائر ایجوکیشن نے معاملہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سامنے اٹھا لیا ہے۔

محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے ایچ ای سی سے گومل یونیورسٹی کے نجی ملحقہ کالجوں کی وابستگی اور علاقائی دائرۂ اختیار کی مکمل جانچ کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گومل یونیورسٹی کے تمام ملحقہ کالجوں کے داخلوں، حاضری، امتحانات اور جاری کردہ ڈگریوں کے ریکارڈ کی جامع تصدیق کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہیرہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ نجی کالجوں اور غیر رجسٹرڈ پروگراموں میں مزید داخلوں کا عمل حیثیت کی تصدیق ہونے تک عبوری طور پر روک دے۔

خط کے متن کے مطابق، نامکمل، مشکوک یا غیر دستیاب طلبہ ریکارڈ سے جاری ہونے والی تمام ڈگریوں کی بھی چھان بین کی جائے گی، جبکہ مشکوک تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے گریجویٹس کی اہلیت اور صلاحیت جانچنے کے لیے تصدیقی ٹیسٹ لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ نجی کالجوں کے طلبہ، حاضری اور امتحانات کا ریکارڈ گومل یونیورسٹی کے مرکزی ریکارڈ سے ملایا جائے گا اور تضادات ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار اور اسناد کی ساکھ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا، اور تعلیمی نظام میں شفافیت لانے کے لیے یہ احتساب بلا تعطل جاری رہے گا۔