پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی سربراہ اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور نے سندھ کی تقسیم کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کی وحدانیت پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سندھ اسمبلی میں انتظامی یونٹس اور سندھ کی تقسیم کے خلاف تحریک التوا پر اظہار خیال کرتے ہوئے فریال تالپور نے کہا کہ سندھ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، اگر استعفیٰ دینا پڑا، رکنیت چھوڑنی پڑی یا جان بھی دینی پڑی تو اس سے دریغ نہیں کریں گے۔
فریال تالپور نے کہا کہ سندھ یہاں کے عوام اور یہاں بسنے والے تمام لوگوں کی دھرتی ہے، اس لیے اس کی تقسیم کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق ’’پاکستان کھپے‘‘ کے بعد ہمارا نعرہ ’’سندھ کھپے‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بیرون ملک نہیں بھاگیں گے، ہمارے بڑوں کی قبریں سندھ میں ہیں اور ہمیں بھی مرنے کے بعد اسی دھرتی میں دفن ہونا ہے۔ فریال تالپور نے اپنی تقریر میں سندھ کے دفاع کیلئے اپنے خاندان کی تاریخی جدوجہد کا بھی حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کیلئے سندھ کی وحدانیت کا دفاع کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس مقصد سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
فریال تالپور نے سندھ کے بلدیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مضبوط بلدیاتی نظام موجود ہے اور اس میں مزید بہتری کیلئے بات کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسی نظام کے تحت مختلف شہروں میں ترقیاتی کام کیے گئے۔
سندھ اسمبلی میں اس دوران صوبے کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر ارکان کی جانب سے مختلف آرا بھی پیش کی گئیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف اپنا واضح مؤقف برقرار رکھا۔









