اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیلی فوج ایران کے توانائی، فوجی اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے وزارت دفاع کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے کی صورت میں اسرائیل کو ایران کے خلاف کارروائی کے حوالے سے موجودہ تمام پابندیوں سے آزادی حاصل ہوجائے گی۔
اسرائیل کاٹز کے مطابق ایران کی جانب سے کسی بھی حملے کا جواب شدید کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا اور قومی، فوجی و شہری انفرااسٹرکچر کے ساتھ توانائی کے مراکز بھی نشانے پر ہوں گے۔
انہوں نے دھمکی دی کہ اسرائیل ایران کو ’’پتھر کے دور اور تاریکی‘‘ میں واپس پہنچا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل دفاعی اور جارحانہ دونوں محاذوں پر مختلف ممکنہ صورتحال کیلئے تیار ہے اور فوج کارروائی کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ خطے میں ہونے والی کارروائیوں کے باعث اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ اور داخلی صورتحال تہران کو سخت ردعمل پر مجبور کرسکتی ہے، اسی لیے اسرائیل کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے کیلئے تیار ہے۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
موجودہ صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی توانائی اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے









