اسلام آباد (عدالتی رپورٹر): اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرز پر نجی اسپتال میں علاج، میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور بیرونِ ملک مقیم اہلخانہ سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
جسٹس محمد آصف نے قیدی محمد اسماعیل سمیت دیگر کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ قیدی کو اپنی مرضی کے نجی اسپتال منتقل ہونے کا بطورِ حق کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے، کیونکہ قید کا مفہوم ہی آزادی پر قانونی قدغنیں عائد کرنا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ قیدیوں کے علاج کی بنیادی ذمہ داری سرکاری اسپتالوں اور ریاست پر عائد ہوتی ہے، تاہم سرکاری سطح پر مطلوبہ علاج میسر نہ ہونے کی صورت میں میڈیکل بورڈ کی سفارش پر ہی نجی اسپتال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے جیل حکام کو پاکستان پریزن رولز 1978ء کے مطابق تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
بیرونِ ملک اہلخانہ سے رابطے کے معاملے پر عدالت نے قرار دیا کہ آن لائن یا وائس رابطے کی اجازت جیل قوانین اور سیکیورٹی تقاضوں سے مشروط ہے۔ دورانِ سماعت عمران خان کو نجی اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے حکم کے حوالے پر عدالت نے واضح کیا کہ عدالتِ عظمیٰ کے متعلقہ احکامات عبوری نوعیت کے ہیں اور زیرِ سماعت مقدمے کے عبوری حکم کو حتمی قانونی نظیر قرار نہیں دیا جا سکتا۔









