6

افغان وزیر داخلہ کی دوطرفہ فریم ورک کی تجویز پر پاکستان کا مشروط مثبت ردعمل: مذاکرات کا دارومدار عملی انسدادِ دہشت گردی اقدامات پر ہوگا، دفتر خارجہ

اسلام آباد: افغان عبوری حکومت کے وزیر داخلہ کی جانب سے متنازع امور کے حل کے لیے مخصوص دوطرفہ طریقہ کار کی تجویز پر پاکستان نے مثبت لیکن مشروط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ریاستی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی مکالمے کی کامیابی کا انحصار زبانی یقین دہانیوں کے بجائے زمینی سطح پر ٹھوس اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات پر ہوگا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، معنی خیز مذاکرات کے لیے افغان طالبان انتظامیہ کو دوحہ فریم ورک سمیت تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی ہوگی اور اس بات کی عملی ضمانت فراہم کرنا ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ ترجمان نے زور دیا کہ کابل انتظامیہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت تمام مخالف پراکسیز اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ پاکستان ادارہ جاتی سطح پر باہمی تعاون کو اسی صورت نتیجہ خیز سمجھتا ہے جب اس کے نتیجے میں سرحد پار دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنائی جائے۔