اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے اسباب، ڈیوٹی عملے کی موجودگی اور غفلت کے تعین پر ابہام برقرار ہے، جس پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے انتظامیہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ڈیوٹی اسٹاف کی فوری معطلی اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ انتظامیہ کے بیانات میں سنگین تضاد ہے؛ پہلے ایئر کنڈیشنر سے آگ لگنے کا دعویٰ کیا گیا جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ اے سی کام ہی نہیں کر رہا تھا، حتیٰ کہ سی سی ٹی وی ریکارڈ سے بھی آگ لگنے کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نرسنگ اسٹاف کو باقاعدہ ایک بیان رٹوایا گیا۔ انہوں نے کمیٹی کی جانب سے آزادانہ تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ 1990ء کی پرانی نرسری کے بجائے نومولود بچوں کو نئے بلاک میں کیوں منتقل نہیں کیا گیا تھا؟ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے بھی پیر کے روز پمز اسپتال میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
ادھر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے اخلاقی بنیادوں پر مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام کی سربراہی میں 4 رکنی اندرونی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جسے 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کی تشکیل کردہ اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال نرسری کے ڈیوٹی روسٹر، فائر بریگیڈ رپورٹس اور سی سی ٹی وی ریکارڈ کو تحویل میں لے کر جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت متعلقہ عملے کے تحریری بیانات قلمبند کر لیے ہیں اور وہ اپنی عبوری رپورٹ 48 گھنٹوں میں وزیراعظم کو پیش کرے گی۔









