8

سانحہ پمز اسپتال: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، انتظامی غفلت، فائر سیفٹی بحران اور گورننس پر گہرے سوالات

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے گائناکولوجی وارڈ کی نرسری میں 26 اگست کی صبح لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے سانحے کے بعد اسپتال کے بحرانی انتظام، فائر سیفٹی سسٹم اور ملکی طرزِ حکمرانی (گورننس) پر سنگین سوالات اور المناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تحقیقاتی تفصیلات کے مطابق صبح 6 بج کر 38 منٹ پر ایئرکنڈیشنر سے چنگاری نکلنے کے بعد این آئی سی یو میں موجود بچوں کو فراہم کی جانے والی آکسیجن کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا۔ متعلقہ شعبے کی جانب سے ایئرکنڈیشنرز کی مینٹیننس کے لیے اعلیٰ انتظامیہ اور وزارتِ صحت کو 4 بار تحریری یاددہانی کے باوجود فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر مرمت التوا میں ڈالی گئی۔

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسپتال میں فائر اسپرنکلز اور خودکار الارم سسٹم موجود نہیں تھا، ایمرجنسی فائر ایگزٹس باہر سے تالے لگا کر مستقل بند رکھے گئے تھے اور چلڈرن وارڈ کے قریبی گیٹ کو سکیورٹی کے نام پر بند رکھنے کے باعث فائر بریگیڈ کے پہنچنے میں شدید تاخیر ہوئی۔ مزید برآں، نائٹ شفٹ میں عملے کی کمی، ڈیوٹی سے غیر حاضری اور نرسری کے دروازوں کا خودکار انداز میں باہر سے نہ کھلنا بچوں کو بروقت ریسکیو نہ کر سکنے کا بڑا سبب بنا۔

متاثرہ والدین نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے چار سال بعد ملنے والی اولاد چند گھنٹوں میں انتظامی لاپرواہی کی نذر ہو گئی۔ دوسری جانب ماہرین اور سابق بیوروکریٹس نے اس سانحے کو ملکی گورننس اور احتساب کے فرسودہ نظام کا شاخسانہ قرار دیا ہے، جہاں وزراء اور اعلیٰ افسران کے مستعفی ہو کر شفاف تحقیقات کا راستہ ہموار کرنے کا کلچر ناپید ہے اور عموماً نچلے درجے کے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔