3

مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی اتحاد کے عسکری و معاشی اعداد و شمار کی روشنی میں: مشترکہ اتحاد کے پاس 20 لاکھ سے زائد فعال عسکری اہلکار موجود ہیں

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا تاریخی سہ فریقی دفاعی معاہدہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک عظيم پیش رفت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ سفارتی حلقوں اور عالمی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس نئے بلاک کی مجموعی عسکری، معاشی اور اسٹریٹجک طاقت کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے حیرت انگیز اعداد و شمار نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔

اس معاہدے کی تحت تینوں اسلامی ممالک کی بنیادی اور مشترکہ صلاحیتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

ایٹمی و بین الاقوامی نفوذ: پاکستان کی شمولیت کے باعث یہ اتحاد ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے، جس کے پاس تقریباً 170 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ترکیہ کی صورت میں نیٹو  کی دوسری بڑی فوج اور معاشی محاذ پر ترکیہ و سعودی عرب کی جی 20 (G20) میں نمائندگی بھی شامل ہے۔ جبکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ میں سعودی عرب کے بانی اور بااثر اوپیک رکن ہونے کا فائدہ بھی اس اتحاد کو حاصل ہے۔

معاشی و جغرافیائی طاقت: تینوں ممالک کا مشترکہ جغرافیائی رقبہ 40 لاکھ مربع کلومیٹر کے قریب ہے، جبکہ ان کی مجموعی معیشت (جی ڈی پی) کا حجم 3 ٹریلین (30 کھرب) امریکی ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔

عسکری قوت و دفاعی سامان: اس مشترکہ اتحاد کے پاس 20 لاکھ سے زائد فعال عسکری اہلکار موجود ہیں۔ فضائی تحفظ کے لیے 1,000 سے زائد جنگی طیارے، بری فوج کے لیے 7,000 سے زائد ٹینک اور 90,000 سے زائد بکتر بند گاڑیاں دستیاب ہیں۔ بحری قوت کی بات کی جائے تو بیڑے کے پاس 34 کے قریب آبدوزیں اور 500 سے زائد نوال پلیٹ فارمز موجود ہیں۔ علاوہ ازیں پانچویں نسل کے جیٹ طیاروں اور جدید ترین ایوی ایشن ٹیکنالوجی تک رسائی بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق "ایک پر حملہ سب پر حملہ" کے بنیادی اصول کے تحت قائم ہونے والا یہ سیکیورٹی فریم ورک مسلم دنیا کی تین بڑی طاقتوں کو یکجا کر کے خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم کرے گا۔