5

بھارت کے معروف صحافی کو ریپ کے جرم میں دس سال قید کی سزا

بھارت کے معروف صحافی اور تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو ریپ کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے بمبئی ہائیکورٹ کے گوا بینچ نے 10 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔

عدالت نے گوا سیشن کورٹ کی جانب سے 2021 میں سنائے گئے بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ریاست کی اپیل منظور کر لی۔ عدالت نے ترون تیج پال کو گرفتاری پیش کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔

ترون تیج پال پر الزام تھا کہ انہوں نے نومبر 2013 میں گوا کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی لفٹ میں اپنی ماتحت خاتون صحافی کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ متاثرہ خاتون صحافی نے الزام عائد کیا تھا کہ واقعے کے دوران انہیں دو مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔

کیس کے دوران ترون تیج پال نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تعلق رضامندی پر مبنی تھا، تاہم عدالت نے شواہد اور کیس کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مجرم قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ گوا کی سیشن عدالت نے 2021 میں ترون تیج پال کو بری کر دیا تھا، جس کے بعد اس فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد گوا پولیس کی تحقیقاتی افسر نے کہا کہ یہ فیصلہ ان خواتین کے لیے اہم ہے جو مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

ترون تیج پال بھارت کے معروف تحقیقاتی صحافیوں میں شمار ہوتے رہے ہیں اور ان کے قائم کردہ جریدے تہلکہ نے ماضی میں کئی بڑے اسٹنگ آپریشنز اور تحقیقی رپورٹس کے باعث شہرت حاصل کی تھی۔

عدالتی فیصلے کے بعد ترون تیج پال کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا قانونی حق موجود ہے۔