3

"پلیز فکس" کی خوفناک کمزوریاں فاش: گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی کے اے آئی براؤزرز مصنوعی ذہانت کے ذریعے باآسانی 'ہیک' ہو سکتے ہیں

سائبر سیکیورٹی کی مشہور عالمی کانفرنس "بلیک ہیٹ یو ایس اے 2026" میں اسرائیلی محققین نے "پلیز فکس"  نامی سائبر سیکیورٹی کی ایسی سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا ہے جو گوگل، مائیکروسافٹ، اوپن اے آئی، اینتھروپک اور پرپلیکسٹی جیسے دنیا کے سب سے بڑے اے آئی براؤزرز اور سسٹمز کو متاثر کر رہی ہیں۔

محققین کے مطابق یہ خامی ہیکرز کو صارف کے سسٹمز پر مکمل ریموٹ کنٹرول اور ان کے اکاؤنٹس پر نا جائز قبضے  کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ان خامیاں کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ "زیرو کلک"  حملوں کو ممکن بناتی ہیں، یعنی ہیکرز کو صارف سے کسی بھی قسم کے لنکس پر کلک کروانے یا کوئی کارروائی کروانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ خود کار طریقے سے اے آئی ایجنٹس کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تحقیق میں ثابت کیا گیا ہے کہ ہیکرز "انٹینٹ کولیشن"  جیسے جدید حملوں کے ذریعے ای میلز یا ویب سائٹس پر موجود مواد میں انتہائی باریک اور نقصان دہ اشارے چھپا دیتے ہیں، جس سے اے آئی ایجنٹ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ہیکرز صارف کی حساس اسناد، اکاؤنٹ پاس ورڈز چوری کر سکتے ہیں اور پورے کمپیوٹر سسٹم پر مکمل رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کا اس حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ عالمی اداروں نے فوری طور پر سیکیورٹی پیچز (اصلاحات) جاری کر دیے ہیں، جبکہ بعض دیگر کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ رویہ ان کے سسٹمز کا ارادہ شدہ ڈیزائن کا حصہ ہے۔ محققین نے ان خامیاں کے خطرات کا موازنہ ماضی کی بدنام زمانہ ٹیکنالوجیز جیسے  سے کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خود مختار  ایجنٹس کی حفاظت کے لیے فوری اور مشترکہ صنعتی معیارات کی تدوین انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔