سپریم کورٹ آف پاکستان نے مالک مکان اور کرایہ دار کے تنازع پر ایک اہم اور واضح فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائیداد کے مالکان کو اپنی ملکیت کے استعمال کا مکمل اختیار حاصل ہے اور وہ اپنی جائیداد کے استعمال کے لیے کرایہ دار کی منشا یا خواہش کے تابع نہیں ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کے علاقے صدر میں واقع ایک عمارت سے متعلق کیس کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس عقیل احمد عباسی نے تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کرایہ دار کو مذکورہ فلیٹ 6 ماہ کے اندر خالی کر کے مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ نے اپنے طے شدہ قانونی اصول کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مالک اپنی جائیداد کی ضرورت کا خود واحد منصف ہے اور کیس میں مالک مکان کا جائیداد کو اپنے استعمال میں لانے کے لیے دیا گیا بیانِ حلفی اس کی حقیقی ضرورت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
واضح رہے کہ اس کیس میں کرایہ دار نے موقف اپنایا تھا کہ عمارت میں مالکان کے دیگر فلیٹس بھی خالی پڑے ہوئے ہیں، جس کی بنیاد پر ہائیکورٹ نے کرایہ دار کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس منطق کو رد کرتے ہوئے قرار دیا کہ دیگر فلیٹس خالی ہونے کی وجہ سے مالک کو اس کی منشا کے مطابق اپنی جائیداد کے استعمال سے نہیں روکا جا سکتا۔









