کسی بھی معاشرے کی ترقی و استحکام میں تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ اس تعلیمی اور اخلاقی بنیاد کو مضبوط بنانے میں ماں کا کردار سب سے نمایاں ہوتا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، جہاں سے وہ بولنا، چلنا، اخلاق اور سیکھنے کی بنیادی صلاحیتیں حاصل کرتا ہے۔
جدید تعلیمی و اخلاقی چیلنجز کے اس دور میں ماؤں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں، بلکہ اس کی محبت، مستقل مزاجی اور توجہ بھی بچے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ گھر میں مطالعے کا سازگار ماحول بنانا، بچوں کے ساتھ روزمرہ کے ہوم ورک پر گفتگو کرنا اور موبائل و ٹی وی کے استعمال کو محدود رکھنا بچوں کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری لاتا ہے۔
تعلیمی ماہرین نے تاکید کی ہے کہ بچے کی کمزور کارکردگی پر اسے ڈانٹنے یا موازنہ کرنے کے بجائے اس کی جذباتی معاونت کی جائے اور چھوٹی کامیابیوں پر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے علاوہ اساتذہ سے مسلسل رابطہ، جدید ٹیکنالوجی کا مثبت و نگرانی شدہ استعمال، اور وقت کی پابندی و دیانت داری جیسے اخلاقی اوصاف کی تربیت سے ہی ایک باکردار اور کامیاب نسل کی تعمیر ممکن ہے۔









