3

فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود گندھارا ہندکو بورڈ کا علاقائی زبانوں اور ادب کی ترقی و ترویج کا سفر جاری: نادر کتب اور تاریخی دستاویزات کی ڈیجیٹل محفوظ سازی بھی ہو رہی ہے

گندھارا ہندکو بورڈ پشاور نے سرکاری مالی معاونت کے بغیر بھی اپنے علمی اور تحقیقی مشن کو کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چار سالوں سے سرکاری فنڈز فراہم نہیں کیے گئے، لیکن اس کے باوجود ادارے کی ادبی و تحقیقی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی۔

محمد ضیاء الدین کے مطابق ادارہ علاقائی زبانوں، بالخصوص ہندکو کے لسان و ادب کے تحفظ، نادر کتب کی ترتیب اور تحقیقی مواد کی جدید ڈیجیٹل ڈومین میں منتقلی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے تا کہ نئے اور پرانے محققین کو معیاری اور مستند مواد میسر آ سکے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے گندھارا ہندکو بورڈ ایک معتبر تحقیقی مرکز کی حیثیت سے کام کر رہا ہے اور ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے درجنوں اسکالرز اس کے علمی ذخیرے سے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ادارے کے بانی چیئرمین ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کی تحریر کردہ نادر علمی و تحقیقی کتابوں کی تفصیلی انڈیکسنگ پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کا مقصد محققین کو مطلوبہ حوالہ جات تک فوری رسائی فراہم کرنا ہے۔ انڈیکسنگ کی مکمل ہونے کے بعد ان کتب کے نئے اور نظرثانی شدہ ایڈیشن شائع کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ، ادارہ جدید دور کی ضروریات کے مطابق نادر کتب اور تاریخی دستاویزات کی ڈیجیٹل محفوظ سازی (ڈیجیٹل آرکائیونگ) بھی کر رہا ہے۔ آن لائن جرائد، ڈیجیٹل کتب، نیوز لیٹرز اور تاریخی موضوعات پر مختصر مستند ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے قارئین اور محققین تک پہنچائی جا رہی ہیں، جنہیں علمی و ادبی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔

محمد ضیاء الدین نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور مالی مشکلات کے باوجود مختلف علاقائی زبانوں کے تحقیقی جرائد اور ادبی مقالاجات کی باقاعدہ اشاعت جاری ہے، جو علاقائی زبانوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے ادارے کے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔