بھارت میں جاری شدید مون سون بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں رواں ماہ 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کے شمال مشرقی، جنوبی اور شمالی پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کئی دریا بپھر گئے، سڑکیں اور پل زیر آب آگئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان شمال مشرقی ریاست آسام میں ہوا، جہاں مون سون کے دوران اب تک 89 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شیواساگر ضلع میں 47 افراد کی ہلاکت رپورٹ ہوئی جبکہ متعدد دیہات اور علاقے تاحال سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جنوبی ریاست کیرالا میں مسلسل بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں طغیانی نے تباہی مچائی، جہاں 15 افراد ہلاک جبکہ 7 افراد لاپتا ہیں۔
دوسری جانب بہار اور جھارکھنڈ میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 22 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں کسان، مویشی چرانے والے افراد اور بچے بھی شامل ہیں۔
بھارت کے پڑوسی ملک سری لنکا میں بھی شدید مون سون بارشوں کے باعث فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک جبکہ 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جنوبی ایشیا میں بارشوں کا نظام پہلے سے زیادہ غیر متوقع اور شدید ہو چکا ہے۔
حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، اس لیے نشیبی علاقوں کے رہائشی احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔









