4

پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسز اور مارجنز کی تفصیلات جاری: فی لیٹر 124 روپے تک کی وصولی کا انکشاف

اسلام آباد/ پشاور: ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں شامل پٹرولیم لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور مختلف مارجنز کی اصل تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس کے مطابق حکومت اور آئل کمپنیاں فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 124 روپے 73 پیسے جبکہ ڈیزل پر 112 روپے 65 پیسے اضافی وصول کر رہی ہیں۔

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، 18 جولائی 2026 سے لاگو نئی قیمتوں کے تحت ایک لیٹر پیٹرول کی اصل بنیادی لاگت  صرف 191 روپے 42 پیسے بنتی ہے، تاہم صارفین کے لیے فی لیٹر قیمت 315 روپے 15 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 241 روپے 70 پیسے ہے جبکہ اس کی موجودہ فروخت کی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکسز و مارجنز کا تقابلی جائزہ

دونوں پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی تفصیل درج ذیل جدول میں دیکھی جا سکتی ہے:

مدات / ٹیکسز اور مارجنپیٹرول (فی لیٹر)ہائی اسپیڈ ڈیزل (فی لیٹر)بنیادی لاگت 191 روپے 42 پیسے241 روپے 70 پیسےپٹرولیم لیوی 80 روپے 00 پیسےشاملِ قیمتکلائمیٹ سپورٹ لیوی5 روپے 00 پیسےشاملِ قیمتکسٹمز ڈیوٹی 18 روپے 16 پیسےشاملِ قیمتان لینڈ فریٹ مارجن 6 روپے 95 پیسےشاملِ قیمتآئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن7 روپے 87 پیسےشاملِ قیمتڈیلرز مارجن 8 روپے 64 پیسےشاملِ قیمتمجموعی ٹیکسز اور مارجنز124 روپے 73 پیسے112 روپے 65 پیسےحتمی مقررہ قیمت315 روپے 15 پیسے354 روپے 35 پیسے

دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ پیٹرول کی حتمی قیمت کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً 40 فیصد صرف ٹیکسز اور مارجنز پر مشتمل ہے، جس میں سب سے زیادہ شرح 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی ہے۔ ان بھاری وصولیوں کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عام صارفین کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔