پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں گزشتہ چار ماہ کے دوران غیر معمولی اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے طبی حلقوں اور انتظامیہ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ معروف ماہر امراض اطفال ڈاکٹر عرفان جمیل نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال سمیت متعدد طبی مراکز میں ایچ آئی وی سے متاثرہ معصوم بچوں کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر عرفان جمیل کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی بنیادی طور پر بچوں کا مرض نہیں ہے، لیکن رواں سال بچوں میں اس وائرس کی شرح تشویشناک حد تک بڑھی ہے۔ انہوں نے اس خطرناک پھیلاؤ کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بڑوں کی بروقت ایچ آئی وی اسکریننگ نہ ہونا اس کا سب سے بڑا سبب ہے، جس کے باعث یہ وائرس والدین یا دیگر بڑوں سے بچوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں اور لیبارٹریوں میں غیر محفوظ خون کی منتقلی اور استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال بھی بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، صورتحال اس وقت زیادہ سنگین ہو چکی ہے جب کراچی ایچ آئی وی ایڈز کا گڑھ بنتا جا رہا ہے، جہاں منشیات کے عادی افراد میں ایڈز کا پھیلاؤ 48 فیصد سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ دوسری جانب نواب شاہ اور دیگر اضلاع میں بھی بچوں میں اس مرض کی منتقلی تیزی سے جاری ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر صحت نے بھی حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ بڑے شہروں میں نائٹ پارٹیز کلچر اور دیگر غیر محفوظ سرگرمیاں بھی ملک میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو بڑھا رہی ہیں، جس کے بعد طبی ماہرین نے حکومت سے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔









