1

پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح تشویشناک حد تک بلند، ڈاکٹر ظفر مرزا کا انکشاف

پاکستان صحت کے شعبے میں ایک انتہائی سنگین بحران سے دوچار ہے جہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح دنیا بھر میں تیسری اور ایشیا میں سب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ سابق وزیرِ صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی ایک ہزار زندہ پیدائشوں میں 28 دن سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح 36.1 ہے، جو جنوبی سوڈان اور نائجیریا کے بعد دنیا میں بلند ترین ہے۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے کہ ایران میں یہ شرح 7.2 اور سری لنکا میں 6.6 ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ ایک یا اس سے بھی کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بحران کے پیچھے گہرے طبقاتی اور علاقائی تفاوت کارفرما ہیں۔ قومی اوسط 36.1 ہونے کے باوجود غریب ترین طبقے میں یہ شرح بڑھ کر 51 فی ہزار ہو جاتی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ 85 فیصد سے زائد امیر ماؤں کو ماہر برتھ اٹینڈنٹس کی سہولت میسر ہے جبکہ غریب ماؤں کے لیے یہ تناسب صرف 30 فیصد ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب تمام صوبوں میں آگے ہے جہاں شرح 51 فی ہزار ہے، اور پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں یہ شرح 65 تک جا پہنچتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہمارے کمزور صحت کے نظام، حکمرانی کے بحران اور صحت کے شعبے پر ناکافی بجٹ خرچ کرنے کی عکاسی کرتی ہے۔ بنیادی صحت کی دیکھ بھال کا فقدان اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت صحت کو اپنی اولین ترجیح بنائے، بنیادی مراکزِ صحت کو فعال کرے اور پسماندہ علاقوں کے غریب عوام تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔