1

باغ کی صفائی کے دوران ہزار سال پرانا وائی کنگ خزانہ دریافت

ڈنمارک کے شمالی علاقے ریبلڈ میں گھر کے باغ کی صفائی کے دوران وائی کنگ دور کا ایک ہزار سال پرانا نایاب چاندی کا خزانہ دریافت ہوا ہے۔

میوزیم حکام کے مطابق خزانے میں تقریباً 700 اشیا شامل ہیں، جن میں چاندی کی سلاخیں، بریسلیٹس، سکے، کٹی ہوئی چاندی اور تھور ہیمر بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر خزانے کا وزن تقریباً 18.5 کلوگرام ہے۔

خزانہ ایک شہری کو اس وقت ملا جب وہ گھر میں نئی ٹیرس بنانے کیلئے باغ سے گھاس اور پتھر صاف کررہا تھا۔ کھدائی کے دوران دھاتی اشیا ہاتھ لگیں تو اسے ابتدا میں لگا کہ شاید پرانی لوہے کی چیزیں ہیں، تاہم مزید کھدائی پر چاندی کے زیورات، سکے اور سلاخیں سامنے آگئیں۔

ماہرین کے مطابق یہ وائی کنگ عہد میں اب تک دریافت ہونے والے بڑے چاندی کے ذخیروں میں شامل ہے۔ خزانے کا ایک بڑا حصہ لکڑی سے بنے برتن میں ملا، جسے تقریباً دسویں صدی عیسوی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

دریافت ہونے والی اشیا میں 47 سکے بھی شامل ہیں۔ ان میں عرب اور اینگلو سیکسن سکوں کے علاوہ ایسے سکے بھی شامل ہیں جن پر انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ دی ایلڈر کا نام درج ہے، جو 899 سے 924 تک بادشاہ رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عربی سکوں اور یورپی نوادرات کی موجودگی سے اس دور میں اسلامی دنیا، انگلینڈ اور وائی کنگ معاشروں کے درمیان تجارتی و ثقافتی روابط کا اندازہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق وائی کنگ دور میں چاندی کو ادائیگی اور دولت کے ذخیرے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ اس کی قدر وزن کے حساب سے طے کی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے چاندی کو چھوٹے ٹکڑوں یا سلاخوں کی شکل میں بھی محفوظ کیا جاتا تھا۔

حکام کے مطابق دریافت شدہ خزانے کا مزید سائنسی اور تاریخی جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کی اصل، مالک اور اس دور کے تجارتی روابط کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔