وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری پاکستان کی مستقبل کی اقتصادی ترقی کیلئے اہم ذرائع ہیں۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے زیر اہتمام ’’پرائیویٹ کیپٹل کو متحرک کرنا: پی پی پی اور نجکاری پر قومی اسٹریٹجک ڈائیلاگ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ پاکستان کو بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل، نظم و ضبط اور جدت سمیت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی موجودہ تقریباً 230 ملین سے بڑھ کر 2050 تک 390 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث بنیادی شہری ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
مشیر نجکاری کے مطابق پاکستان کو مزید ہسپتال، اسکول، توانائی اور پانی کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ریلوے، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے انفرااسٹرکچر کو بھی وسعت دینا ہوگی۔ حکومت اکیلے ملک کی بڑھتی ہوئی بنیادی ڈھانچے کی ضروریات پوری نہیں کرسکتی، اس لیے نجی شعبے کی شمولیت ناگزیر ہے۔
محمد علی نے کہا کہ نجکاری کے ذریعے ایسی کمرشل کمپنیوں کا انتظام نجی شعبے کو منتقل کیا جاسکتا ہے جو عوامی وسائل پر مسلسل انحصار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق نجی شعبہ سرمایہ، انتظامی صلاحیت، جدت اور بہتر خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریونیو لیکیج اور آپریشنل مسائل کم کرسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 1990 سے اب تک تقریباً 36 ارب ڈالر مالیت کے 154 پی پی پی منصوبے مالیاتی مراحل کی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ موجودہ پی پی پی پائپ لائن میں تقریباً 6.5 ارب ڈالر مالیت کے 38 منصوبے شامل ہیں۔
مشیر نجکاری کے مطابق حکومت اس وقت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، ہوائی اڈوں، انشورنس کمپنیوں اور بینکوں سمیت 27 نجکاری ٹرانزیکشنز پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو حکومت کی نجکاری کی صلاحیت اور عزم کی مثال قرار دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 600 ارب روپے کا ورثے میں ملا قرضہ ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیا جاچکا ہے۔
محمد علی نے کہا کہ پاور سیکٹر میں بھی بجلی کی تقسیم سے متعلق 9 اثاثوں کی فروخت پر کام جاری ہے، جس کا مقصد صرف نجکاری نہیں بلکہ شعبے میں اصلاحات، مسابقتی سپلائی نظام اور جدید انتظامی ڈھانچے کا قیام بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کے منصوبوں کو تیز کرنے کیلئے قانونی و انتظامی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد، اداروں کے درمیان تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ملک کے بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
محمد علی نے زور دیا کہ تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنایا جاسکے۔









