1

خیبرپختونخوا میں دس ماہ کے دوران 76 کواڈ کاپٹر حملے، رہائشی مکانات، مساجد، تعلیمی ادارے اور پولیس و فرنٹیئر کور کے دفاتر سمیت اہم تنصیبات نشانہ بنیں

پشاور (نامہ نگار) خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کے حوالے سے ایک تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے جہاں گزشتہ دس ماہ کے دوران کواڈ کاپٹر حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صوبے بھر میں بائیس اکتوبر دو ہزار پچیس سے یکم ستمبر دو ہزار چھبیس تک کواڈ کاپٹر کے چھہتر حملے ہو چکے ہیں۔

موصولہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ حملے بنیادی طور پر صوبے کے جنوبی اور قبائلی اضلاع کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور بنوں میں ان واقعات کا تناسب سب سے زیادہ رہا ہے۔ اس کے علاوہ خیبر، باجوڑ، اورکزئی، ٹانک، لکی مروت، کرم اور پشاور کے اضلاع بھی اس نوعیت کے حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

حکومتی اور سکیورٹی رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں عسکریت پسندوں نے نہ صرف دفاعی تنصیبات بلکہ عام شہریوں کے مسکن اور عبادت گاہوں کو بھی ہدف بنایا ہے۔ متاثرہ مقامات میں رہائشی مکانات، مساجد، تعلیمی ادارے اور پولیس و فرنٹیئر کور کے دفاتر شامل ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں اور املاک کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ متعلقہ ادارے ان فضائی حملوں کی روک تھام اور سکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔