1

کیڑوں کی مسلسل آوازوں نے چینی نوجوان کو اسپتال پہنچا دیا

چین کے صوبہ ژیجیانگ کے شہر ننگبو میں 18 سالہ نوجوان جنگل میں کیمپنگ کے دوران کئی گھنٹوں تک سیکاڈا کی مسلسل تیز آوازیں سنتا رہا، جس کے بعد اس کی سماعت عارضی طور پر متاثر ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق وانگ نامی نوجوان کو دوپہر کے قریب سیکاڈا کی آوازیں معمول سے زیادہ تیز محسوس ہوئیں، تاہم وہ شام تک جنگل میں موجود رہا۔

شام کے وقت نوجوان کو کانوں میں گھن گرج اور بھرا بھرا پن محسوس ہونے لگا۔ جب سیکاڈا کی آوازیں کم ہوئیں تو اسے معلوم ہوا کہ وہ پرندوں کی چہچہاہٹ اور اپنے موبائل فون کی نوٹیفکیشن کی آوازیں بھی واضح طور پر نہیں سن پا رہا۔

سماعت متاثر ہونے کے خدشے کے باعث نوجوان فوری طور پر اسپتال پہنچا۔ ڈاکٹروں کے معائنے میں اس کے دونوں کان سوجے ہوئے پائے گئے۔

طبی معائنے کے بعد اسے دوا دی گئی اور کم از کم 14 دن تک تیز آوازوں سے مکمل پرہیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

خوش قسمتی سے علاج اور احتیاط کے بعد تقریباً دو ہفتوں میں نوجوان کی سماعت مکمل طور پر بحال ہوگئی۔

ماہرین کے مطابق مسلسل بلند آوازوں کے زیادہ دیر تک سامنے رہنے سے کانوں کو عارضی یا بعض صورتوں میں مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے غیر معمولی طور پر تیز قدرتی یا مصنوعی آوازوں سے بھی احتیاط ضروری ہے۔