افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ افغان عبوری حکومت کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود وہ اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان افغانستان سے جاری کشیدگی میں دراصل کیا چاہتا ہے۔
بی بی سی کے نمائندے سید عبداللہ نظامی سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خان متقی نے پاک افغان کشیدگی کو یکطرفہ قرار دیا اور مؤقف اپنایا کہ افغانستان کی جانب سے کبھی کوئی جارحیت یا مسائل پیدا نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے نہ تو کبھی حملے ہوئے، نہ تجارتی راستے بند کیے گئے اور نہ ہی پاکستانی ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، بلکہ تجارتی ناکہ بندیاں، حملے اور اقوامِ متحدہ کی سطح پر شکایات ہمیشہ اسلام آباد کی طرف سے ہی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اصل سوال تو پاکستان سے پوچھا جانا چاہیے کہ ان کی کیا مجبوری ہے جو معاملات کو اس نہج تک لے جایا گیا۔
پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل اور اختیارات کی غیر متوازن تقسیم کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسندی 78 سال پرانا مسئلہ ہے جبکہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) گزشتہ 20 سال سے زائد عرصے سے برسرِ پیکار ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈیورنڈ لائن اور سرحدی سیکیورٹی کے انتظام کے حوالے سے موجودہ افغان انتظامیہ نے افغانستان کے کسی بھی سابقہ دورِ حکومت سے زیادہ سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔









