اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں یمن کی صورتحال پر بریفنگ کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی سیاسی عمل کی بحالی پر زور دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے متنبہ کیا کہ یمن ایک بار پھر وسیع پیمانے پر مسلح تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے 2022 کے بعد پیدا ہونے والا پرامن ماحول تباہ ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ انہوں نے الحدیدہ، مارب اور حضرموت میں شہریوں کی ہلاکتوں اور حوثیوں کے میزائل و ڈرون حملوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔ سفیر عاصم افتخار نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے برادر ملک کے خلاف حوثیوں کی دھمکیوں اور حملوں کی شدید مذمت کی۔
پاکستانی سفیر نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے 11 اگست کو تجارتی بحری جہاز ’تہامہ‘ (Tihamah) پر ہونے والے حملے کا خصوصی حوالہ دیا، جس میں 3 پاکستانی اور 1 انڈونیشیائی ملاح جاں بحق جبکہ 7 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں اور بحری عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا عالمی قانون کے تحت لازمی ہے۔
عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے عملے اور سفارتی اہلکاروں کی من مانی حراست کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یمن کی خودمختاری اور سالمیت کے احترام کے ساتھ یمنی قیادت میں جامع سیاسی مذاکرات ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں۔









