5

خاتون کو اولاد نہ ہونے کا طعنہ، سرکاری افسر پر 5 لاکھ جرمانہ

وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے خاتون کولیگ کو تضحیک کا نشانہ بنانے، ذاتی معاملات پر طعنے دینے اور سوشل میڈیا پر مبینہ تضحیک آمیز مہم چلانے کے الزام میں ایک سرکاری افسر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

وفاقی محتسب کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کی صنفی بنیادوں پر تذلیل، کردار کشی یا تحقیر آمیز زبان کا استعمال ہراسیت اور امتیازی رویے کے زمرے میں آتا ہے۔

فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ ملزم افسر نے خاتون کولیگ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی، جس میں متعدد توہین آمیز پیغامات آن لائن شیئر کیے گئے۔

وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ خاتون کی ذاتی زندگی، خصوصاً اولاد نہ ہونے کے معاملے کو نشانہ بنانا اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنا شعوری طور پر عزت نفس مجروح کرنے کی کوشش تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی شناخت یا برادری سے منسوب اصطلاحات کو بطور گالی یا تضحیک استعمال کرنا معاشرتی نقصان دہ رویوں کو فروغ دیتا ہے اور ایسے طرزِ عمل کی پیشہ ورانہ ماحول میں کوئی گنجائش نہیں۔

وفاقی محتسب نے واضح کیا کہ سرکاری اور نجی اداروں میں ہر فرد کے لیے محفوظ، باوقار اور مساوی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ ہراسیت اور امتیازی رویوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

فیصلے کے تحت متعلقہ افسر پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جسے کام کی جگہ پر ہراسیت اور صنفی امتیاز کے خلاف ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔