5

قبائلی علاقوں سے ٹیکس وصولی قبول نہیں، گورنر کے پی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت سے قبائلی اضلاع کے لیے وعدہ کردہ 100 ارب روپے جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کسی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔

پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کی جانب سے قبائلی علاقوں کے لیے 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جسے پورا کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کو واضح کر دیا ہے کہ فاٹا اور پاٹا ٹیکس نہیں دے گا۔ گورنر کے پی نے ایف بی آر حکام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اسلام آباد کے دفاتر میں بیٹھے افسران زمینی حقائق جاننے کے لیے قبائلی علاقوں کا دورہ کرتے ہیں؟

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا گیس اور بجلی پیدا کرتا ہے، لیکن صوبے کے کئی شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے وفاق کے سامنے مشترکہ آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

گورنر کے پی نے صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے امن و امان کو بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانے کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں نے ملک کا نام روشن کیا ہے، تاہم مختلف کھیلوں میں مزید ٹیلنٹ سامنے لانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کرکٹ لیگ 18 جولائی سے شروع ہو رہی ہے، جس میں وزیراعلیٰ کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشاور سے سعودی ایئر لائن کی سروس شروع ہو چکی ہے جبکہ روڈ ٹو مکہ سروس بھی پشاور سے شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سے کمانے والی کمپنیوں کو صوبے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔