چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی جاری رہی تو ملک میں معاشی ترقی کیسے ممکن ہوگی؟ پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان سے لڑتے رہنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل کے حل اور معیشت کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے۔
لاڑکانہ میں 600 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات انتہائی مثبت رہی، جس میں وفاق، خیبرپختونخوا اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پر اتفاق ہوا۔ عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے تجویز دی کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس اسلام آباد کے علاوہ صوبوں میں بھی منعقد کیے جائیں تاکہ صوبائی حکومتوں کے مسائل اور عوامی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننا چاہیے اور اختلافات کے بجائے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ عوام کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر عوام معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
لاڑکانہ میں 600 بستروں کا جدید اسپتال تعمیر ہوگا
بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں نئے جدید اسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 371 بستروں پر مشتمل اسپتال تعمیر کیا جائے گا، جس میں 8 آپریشن تھیٹرز، آئی سی یو اور میڈیکل آئی سی یو کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ان کے مطابق منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 9 ارب 20 کروڑ روپے ہے، تاہم مہنگائی اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لاگت بڑھنے کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبے کے لیے مالی معاونت سندھ حکومت فراہم کر رہی ہے اور اس میں وفاقی حکومت کا کوئی فنڈ شامل نہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ چانڈکا اسپتال 1970 میں قائم ہوا تھا، لیکن آبادی میں اضافے اور سندھ کے دیگر علاقوں سمیت بلوچستان سے آنے والے مریضوں کے باعث پرانے اسپتال پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاڑکانہ میں نئے اسپتال کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ترجیح عوام کو عالمی معیار کی طبی سہولیات مفت فراہم کرنا ہے تاکہ کوئی شہری مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ لاڑکانہ اور گردونواح کے عوام کے لیے ایس آئی یو ٹی کی سہولت فراہم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
تعلیم اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں پر بھی گفتگو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے کہا کہ سندھ حکومت جامعات کو تقریباً 45 ارب روپے فراہم کر رہی ہے، جبکہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے لیے تقریباً 65 ارب روپے کی گرانٹ دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعات کے مالی مسائل حل کرنے کے ساتھ ان کی خودمختاری اور آمدن بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ طلبہ کو کم لاگت میں معیاری تعلیم فراہم ہوسکے۔
بلاول بھٹو نے لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں صاف پانی کی فراہمی، سیوریج اور نکاسی آب کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ آبادی کے مطابق واٹر سپلائی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رتوڈیرو کے واٹر سپلائی منصوبے کو بحال کیا گیا ہے، تاہم اس کی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ قمبر شہدادکوٹ میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کے منصوبوں کی تکمیل آئندہ ایک سے دو سال میں متوقع ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا اور کوشش ہوگی کہ عوام کو بہتر سہولیات ان کی دہلیز پر میسر آسکیں۔









