گوجرانوالہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 میں ضمنی انتخاب 8 نومبر کو ہوگا، جس کے لیے انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ حلقے میں مجموعی طور پر 11 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جبکہ 5 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
انتخابی اعداد و شمار کے مطابق حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 18 ہزار 620 ہے، جن میں 2 لاکھ 77 ہزار 480 مرد اور 2 لاکھ 41 ہزار 140 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ووٹنگ کے انتظامات کے لیے مجموعی طور پر 333 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں مردوں کے لیے 142، خواتین کے لیے 137 جبکہ 54 مشترکہ پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔
حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ کے شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل ہے، جس میں کینٹ، قلعہ دیدار سنگھ، لدھیوالہ وڑائچ، تلونڈی کھجور والی، راہوالی اور شاہین آباد سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔
راشد بشیر ورک اور قاضی ابراہیم گجر کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع
ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر اور پاکستان نظریاتی پارٹی کے طیب محمود سمیت 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ الفت رسول وڑائچ اور منظور قادر بھنڈر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
اہل علاقہ کے مطابق ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر کے درمیان متوقع ہے۔
تمام امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کے دوران جلسے، جلوس، ریلیاں اور گھر گھر رابطہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ امیدوار اپنی کامیابی کے لیے بڑے بڑے دعوے بھی کر رہے ہیں۔
سابق رکن قومی اسمبلی کی وفات کے بعد نشست خالی ہوئی
واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے محمود بشیر ورک بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد قومی اسمبلی کی نشست خالی ہوئی، جس پر مسلم لیگ (ن) نے ان کے صاحبزادے راشد بشیر ورک کو امیدوار نامزد کیا ہے۔
دوسری جانب حلقے کے عوام کو ٹوٹی سڑکوں اور گلیوں، صحت کی سہولیات، صاف پانی اور سیوریج سمیت مختلف بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
8 نومبر کو ہونے والا ضمنی انتخاب اس حلقے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ووٹرز کی بڑی تعداد کے باعث امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں بھرپور سرگرمی دکھائی جا رہی ہے۔









