4

امریکا یا اسرائیل نے حملہ کیا تو ایرانی میزائل یورپ تک پہنچیں گے: ایران

ایران کے رکن پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں ایرانی جوابی میزائل یورپ تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ نئی جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حسین علی حاجی دلیگانی کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جواب دیا جائے گا اور ایرانی میزائلوں کی ممکنہ رینج یورپی سرزمین تک محیط ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا ردعمل ممکنہ حملے کے حجم یا جغرافیائی مقام تک محدود نہیں ہوگا بلکہ جوابی کارروائی وسیع، زیادہ شدید اور تزویراتی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے خبردار کیا کہ نئی فوجی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر لے جا سکتی ہے۔

حسین علی حاجی دلیگانی نے ایران کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو بھی ایران کے خلاف جنگ کی ایک شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج مناسب وقت پر امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا کر جواب دیں گی۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان امریکی بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز اور جنگ کے خاتمے کیلئے ممکنہ معاہدے پر کشیدگی برقرار ہے۔

یورپ کو نشانہ بنانے کی دھمکی کیوں دی گئی؟

ایرانی حکام کے حالیہ بیانات میں یورپی ممالک کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ 4 نومبر کو ایرانی رکن پارلیمنٹ احمد بخشایش اردستانی نے یورونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا نے اٹلی اور جرمنی سمیت یورپی ممالک میں موجود فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کیے تو ایران ان اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق جو ممالک امریکا کو اپنی سرزمین یا فوجی تنصیبات ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے، وہ بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے دائرے میں آسکتے ہیں۔

تاہم ایرانی حکام کے یہ بیانات دھمکیوں اور انتباہات پر مشتمل ہیں، ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایران نے یورپی ممالک پر حملے کا کوئی حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت پیغام

یکم نومبر کو ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی قیادت سے خطاب میں کہا تھا کہ کسی بھی سطح کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے ماورا جواب دیا جائے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے فوج کو ممکنہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی، جس میں فوجی تنصیبات کے علاوہ دیگر مادی اور غیر مادی اثاثے بھی شامل کرنے کا کہا گیا۔

عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کا خدشہ

ایران کی دھمکیوں کا ایک اہم پہلو عالمی تیل کی منڈی بھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں عالمی سطح پر سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات یا جہازوں کو نشانہ بنائے جانے سے سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اس کے علاوہ انشورنس، شپنگ اور تیل کی ترسیل کے اخراجات میں اضافے سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی کا پس منظر

فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔

بعد ازاں پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل 2026 کو عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازعات مکمل طور پر حل نہیں ہوسکے۔

نومبر 2026 میں ایرانی قیادت کی جانب سے نئی امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کی صورت میں سخت جوابی اقدامات کے بیانات سامنے آنے کے بعد خطے میں کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان فی الحال ایک انتباہ اور خدشہ ہے، حتمی پیش گوئی نہیں۔