ایک نئی طبی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ہفتے بھر دیر تک جاگنے کے بعد ہفتہ وار تعطیلات کے دوران دیر تک سونے یا نیند کے اوقات میں مسلسل تبدیلی کی عادت دل کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے سنگین طبی امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
شکاگو میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سائنسی اجلاس 2026ء میں پیش کی جانے والی اس تحقیق کے اہم اور چونکا دینے والے نکات درج ذیل ہیں:
-
تحقیق کا دائرہ کار: محققین نے امریکی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کے پروگرام ’آل آف اس‘ کے تحت 10 ہزار سے زائد بالغ افراد کے 10 لاکھ سے زائد راتوں کی نیند کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ شرکاء نے اپنی نیند اور جسمانی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ٹریکنگ ڈیوائسز پہن رکھی تھیں۔
-
دل کی صحت پر منفی اثرات: نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً 6 ماہ کے عرصے میں ہر رات سونے کے اوقات میں تبدیلی کا براہِ راست تعلق دل کے دورے، فالج اور ہارٹ فیل ہونے سمیت سنگین طبی مسائل کے خطرے میں 20 سے 23 فیصد اضافے سے ہے۔
-
نیند کے دورانیے میں فرق کے نقصانات: ہر رات نیند کے دورانیے میں اوسطاً 29 منٹ کے اضافی فرق کا تعلق بھی صحت کے لاحق ہونے والے شدید خطرات سے پایا گیا۔ اس بے قاعدگی کی وجہ سے دل کے پٹھوں کی بیماری کا خطرہ 29 فیصد زیادہ دیکھا گیا جس میں دل جسم کو ضرورت کے مطابق خون پمپ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جبکہ ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی 20 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
-
باغقاعدہ نیند کے فوائد: اس کے برعکس، تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہر رات نیند کے مکمل سائیکلز کی زیادہ تعداد کا تعلق 'ایٹریل اریتھمیا' کے خطرے میں 28 فیصد کمی سے ہے۔
-
ماہرین کی رائے: ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے کے اختتام پر دیر تک سونا یا معمول کے وقت پر سونے سے گریز کرنا صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے، لہذا دل کی حفاظت اور طویل صحت مند زندگی کے لیے نیند کے اوقات میں باقاعدگی برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔









