چین میں انسان نما روبوٹس کی عملی کارکردگی کو جانچنے کے لیے ایک منفرد تجربہ کیا گیا ہے، جس کے تحت 6 ہیومینائیড روبوٹس نے شنگھائی کے ایک سپر اسٹور میں مسلسل 24 گھنٹے تک فرائض انجام دیے۔
چینی کمپنی ’ایجی بوٹ‘ کی جانب سے ’روبوٹس کبھی چھٹی نہیں کرتے‘ کے عنوان سے کیے گئے اس تجربے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
تجربے کا مقصد: اس تجربے کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا تھا کہ جدید روبوٹس دن اور رات کے مختلف اوقات (جیسے دوپہر کا رش، شام کے اوقات، رات کی ڈیوٹی اور صبح کے ناشتے کا وقت) میں دکان کے معمول کے کام کتنی مہارت اور خود مختاری کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔
-
مجموعی کارکردگی اور کام: 24 گھنٹے کے اس تجربے کے دوران ان 6 روبوٹس نے مجموعی طور پر 1,730 کام کامیابی سے مکمل کیے، جن میں درج ذیل خدمات شامل تھیں:
-
683 صارفین کا استقبال
-
369 اشیاء نکالنے اور ان کی ترسیل کے کام
-
147 مرتبہ کافی کی تیاری
-
126 گرم کھانوں کے آرڈرز کی تیاری
-
277 شیلفس کی جانچ اور اشیاء کو دوبارہ ترتیب دینا
-
128 میزوں کی صفائی کے امور
-
-
کامیابی اور ناکامی کا تناسب: تجربے کے اختتام پر 4 روبوٹس نے انتہائی تسلی بخش کارکردگی دکھائی، جبکہ 2 روبوٹس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے۔ ناکام رہنے والے روبوٹس کے حوالے سے یہ حقائق سامنے آئے:
-
پہلا روبوٹ جو صفائی پر مامور تھا، راستے میں ایک بھرا ہوا کوڑا دان دیکھ کر اپنے مقررہ راستےسے ہٹ گیا اور دکان سے باہر نکل کر واپس اپنی جگہ نہ پہنچ سکا۔
-
دوسرا روبوٹ شیلفس کی نگرانی اور اشیاء کو دوبارہ رکھنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا کیونکہ وہ دکان میں اشیاء کی فروخت کی رفتارکے مطابق کام کرنے کی صلاحیت ظاہر نہیں کر سکا۔
-
-
ماہرین کی رائے اور چیلنجز: غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید انسان نما روبوٹس میں مصنوعی ذہانت کی موجودگی کے باوجود انہیں حقیقی دنیا کے پیچیدہ ماحول میں ہارڈویئر کنٹرول کرنے اور مکمل خود مختاری سے فیصلے کرنے میں اب بھی نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔
-
عالمی تناظر اور دیگر تجربات: اس سے قبل گزشتہ ماہ امریکی کمپنی ’ڈائمینشنل‘ نے بھی اپنے روبوٹ کتوں کو شہری ماحول میں چلانے اور ان کی نقل و حرکت بہتر بنانے کے لیے انسانی معاونین کی خدمات حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے بانی کے مطابق یہ تجربات ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ اے آئی سسٹمز کو ہارڈویئر پر مؤثر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مزید ترقی کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ امریکی کمپنی نے چین کی کمپنی ’یونٹری‘ سے 2,000 ڈالرز مالیت کے روبوٹ کتے خرید رکھے ہیں، جبکہ چین، جرمنی اور امریکہ کی مختلف کمپنیاں مجموعی طور پر 100 روبوٹ کتے اور 50 انسان نما روبوٹس اس شعبے میں استعمال کر رہی ہیں۔








