پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی سیاسی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم امور پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
-
پی ٹی آئی سے مذاکرات اور اندرونی اختلافات: سیاسی مذاکرات کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ «کون سی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کریں؟ تحریک انصاف کی چار پانچ فرنچائز بن چکی ہیں، پہلے انہیں آپس میں متحد ہونا چاہیے، پھر ہمارے ساتھ بات کریں۔» انہوں نے مزید کہا کہ جب سیاستدانوں کی طرح بات ہوگی تو چیت بھی ہوگی۔
-
تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی: صوبے میں تجاوزات کے معاملے پر واضح مؤقف اپناتے ہوئے گورنر نے کہا کہ کارروائی مکمل طور پر بلاامتیاز ہوگی۔ مفتی محمود مرکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وہ بھی تجاوزات کی زد میں آیا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، کسی کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا، اس لیے شہری خود تجاوزات ہٹا دیں تاکہ مشکلات سے بچ سکیں۔
-
وفاقی پیکج اور ترقیاتی منصوبے: فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکج فراہم کیا ہے جس پر وہ وفاق کے مشکور ہیں۔ صوبے کا مقدمہ اب گالی گلوچ کے بجائے دلائل اور حقائق کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پشاور انڈر پاس کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ناردرن بائی پاس کا دورہ کر کے اسے وقت پر مکمل کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
-
دہشت گردی کا خاتمہ اور سزا و جزا کا نظام: گورنر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صوبے میں ان کی حکومت کی پہلی ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ جب تک ملک میں مؤثر سزا و جزا کا نظام قائم نہیں ہوگا، نظام درست نہیں ہو سکتا اور کرپشن میں ملوث ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
-
نادرا افسر کا قتل: حیات آباد میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ بظاہر یہ معاملہ ذاتی زمین کے تنازع اور دشمنی کا معلوم ہوتا ہے۔
-
مولانا فضل الرحمان پر تنقید: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے بھائی اور بیٹے کی پالیسیوں کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں، جن کے بچے یورپ میں سیر سپاٹے کرتے ہیں جبکہ غریب کارکنوں کے بچوں کو افغانستان بھیجا جاتا ہے۔









