2

اے آئی کی تربیت کے لیے پرانی کتابوں کا اسکیننگ عمل، نایاب اور صدیوں پرانا علمی ورثہ ضائع ہونے کا انکشاف

مصنوعی ذہانت کو مزید طاقتور اور باصلاحیت بنانے کے لیے دنیا بھر میں پرانی اور نایاب کتابوں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے، تاہم اس عمل کے دوران صدیوں پرانا انسانی علمی و ثقافتی ورثہ شدید خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کی جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیاں بڑے پیمانے پر نایاب اور تاریخی کتابیں خرید رہی ہیں اور انہیں جدید و تیز رفتار مشینوں کے ذریعے اسکین کر کے ان کا تمام مواد اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے محفوظ کر رہی ہیں۔ تاہم انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اسکیننگ کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد چند کمپنیاں ان کتابوں کے اصل تاریخی نسخوں کو تلف (ضائع) کر دیتی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منظم منصوبے کا آغاز دو سال قبل فروری 2024 میں ہوا تھا، جب ایک معروف اے آئی کمپنی نے ایک فرد کو دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ کتابیں اکٹھی کرنے کے لیے باقاعدہ ملازمت پر رکھا۔

عالمی ماہرینِ تعلیم و ثقافت نے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس تلفی میں نایاب اور تاریخی نسخے شامل ہیں تو یہ انسانی تاریخ، ثقافتی ورثے اور علم کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیک کمپنیاں خصوصاً 2022ء سے قبل شائع شدہ مواد کی تلاش میں ہیں، کیونکہ اس دور کی تحریروں میں خالصتاً انسانوں کا تخلیق کردہ علمی مواد اور اسلوبِ تحریر موجود ہے۔