5

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری یا رضاکارانہ روانگی؟ پنجاب پولیس نے مؤقف واضح کردیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی مبینہ گرفتاری سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر پنجاب پولیس نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے پولیس وین میں سوار ہوئے۔

لاہور پولیس کے سربراہ کے مطابق سہیل آفریدی کو پولیس کی جانب سے گرفتار یا حراست میں رکھنے کا تاثر درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا خود پولیس وین میں بیٹھے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس وین وہاں سے روانہ ہوئی۔

پولیس وین میں بیٹھنے کی ویڈیو وائرل

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں سہیل آفریدی کو کارکنوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ پولیس وین میں بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار انہیں وین سے باہر آنے کیلئے کہتا دکھائی دیتا ہے، تاہم سہیل آفریدی باہر آنے سے انکار کرتے ہیں، جس کے کچھ دیر بعد وین وہاں سے روانہ ہوجاتی ہے۔

پولیس کے مطابق وزیراعلیٰ کیلئے مکمل سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

سہیل آفریدی کا اغوا کی کوشش کا الزام

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور انہیں سڑک پر لاکر چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں انہیں کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس پر ہوگی۔

خیبر پختونخوا حکومت کا بھی ردعمل

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس نے سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا تو وہ پولیس وین تک کیسے پہنچے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور کارکنوں کی جانب سے وہاں پہنچنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی۔

پنجاب حکومت کی وضاحت

وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے پولیس وین میں خود بیٹھنے کی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار انہیں باہر آنے کا کہتے رہے، تاہم وہ وین میں بیٹھے رہے۔

یوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے سے یہ معاملہ ایک طرف پولیس کے مؤقف اور دوسری جانب وزیراعلیٰ و صوبائی حکومت کے دعووں کے باعث سیاسی تنازع بن گیا ہے۔