سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ مقدمات کے مقرر کرنے کی پالیسی باضابطہ طور پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہے اور اب ان کے اپنے کہنے پر بھی کوئی مقدمہ فکس نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کاز لسٹ میں آنے والے مقدمات کو دو افسران ری چیک کرتے ہیں، جبکہ عدلیہ کی اصل کامیابی فیصلوں کی محض تعداد سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور شفاف انصاف کی فراہمی سے جڑی ہے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ جلد سماعت کی درخواستوں کے لیے ایک مخصوص بینچ تشکیل دیا جا رہا ہے جو ضرورت پڑنے پر شام کے وقت بھی بیٹھے گا، اور شریعت اپیلٹ بینچ ہر دو ماہ بعد ایک ہفتے کے لیے سماعت کرے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ججز تین ماہ کی چھٹیاں کرتے ہیں، اور واضح کیا کہ ججز سال کے اس دورانیے میں صرف ایک ماہ کی چھٹی کرتے ہیں۔
5









