ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے اور امریکا کی جانب سے بحری جہازوں کو جنوبی راستے سے گزرنے کی یقین دہانیاں قابلِ اعتبار نہیں۔
ویڈیو پیغام میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی فورسز آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو گزارنے کی امریکی کوششوں کی مزاحمت کر رہی ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز اب بھی آبنائے پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں اور اسے کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
قالیباف کے مطابق امریکا جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی یقین دہانیاں کرا رہا ہے، لیکن ایران کے مطابق یہ ضمانتیں درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ امریکا مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی راستہ استعمال کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران ایسا نہیں ہونے دے گا۔
محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی بحری ناکہ بندی کو فوجی اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ناکہ بندی مزید سخت کی گئی تو ایران فوجی جواب دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا کا مقصد خلیج سے ایران کی تیل برآمدات روکنا ہے تو اس کے نتیجے میں کسی بھی ملک کیلئے تیل برآمد کرنا ممکن نہیں رہے گا۔









