6

پاکستان اور افغانستان بحران نہیں استحکام کیلئے باہمی انحصار استعمال کریں: افغان سفیر

پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگوں اور سلامتی سے متعلق صورتحال نے پاکستان اور افغانستان کے مفادات اور حکمت عملی کو ایک دوسرے سے گہرائی سے جوڑ دیا ہے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی موجودہ حقیقتوں کو فرسودہ مفروضوں کے بجائے نئے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

سردار احمد شکیب کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان محض دو ہمسایہ ممالک نہیں، دونوں کے جغرافیے، عوام، معاشرے اور تاریخ ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تجارت، ٹرانزٹ اور عوام کی آمدورفت دونوں ممالک کے درمیان باہمی انحصار کو مزید مضبوط بناتی ہے۔

افغان سفیر کے مطابق آج کا افغانستان نہ سرد جنگ کا افغانستان ہے اور نہ ہی 1990 کی دہائی کا، جبکہ 2001 کے بعد غیر ملکی فوجی موجودگی اور بیرونی سیاسی مداخلت کے دور کے بعد 2021 میں کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت سامنے آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سیاسی، سلامتی اور معاشی صورتحال پاکستان کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح پاکستان میں ہونے والی پیش رفت بھی افغانستان پر اثرانداز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی انحصار کی حقیقت تبدیل نہیں کرسکتے، تاہم اسے بحران کے بجائے استحکام، سلامتی اور مشترکہ معاشی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا انتخاب ضرور کرسکتے ہیں۔

سردار احمد شکیب نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کو اختلافات کے بجائے تعاون، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کیلئے باہمی انحصار کو بروئے کار لانا ہوگا۔