5

اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم، فیملی اور وکلا سے ملاقاتوں کی ہدایت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ درخواستوں کو واضح ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا ہے۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے نصرت بھٹو اور بیگم شمیم آفریدی کیسز کی نظیر کے تحت درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ دونوں شخصیات کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق جیل حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی باہمی ملاقات کرائی جائے، جیل قوانین کے تحت فیملی سے ملاقاتیں بحال کی جائیں، اور بانی پی ٹی آئی کی ان کے بیٹوں کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کا بھی باقاعدہ انتظام کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ٹیلی فونک آڈیو ریکارڈ کر کے اس کا غلط استعمال کیا گیا تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات، کتب اور جیل قوانین کے مطابق ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنا کر 15 روز کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔