74

خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کالعدم قرار

 

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد ان کی تاحیات نااہلی بھی ختم ہوگئی۔ 

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی جس میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ بھی شامل تھے۔ 

جسٹس عمر بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق 26 اپریل کو سنائے جانے والے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔

فاضل جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے سے متعلق وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی ختم ہوگئی اور اب وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہل ہوں گے۔

فریقین کے دلائل

 خواجہ آصف نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ رٹ دائر ہونے سے قبل بینک اکاؤنٹ اور اقامہ ظاہر کر چکا تھا۔

خواجہ آصف کا اپیل میں مؤقف تھا کہ کاغذات نامزدگی میں بیرون ملک بینک اکاؤنٹ غیر ارادی طور پر ظاہر نہ کرسکا جب کہ اکاؤنٹ میں کاغذات نامزدگی کے ڈکلیئرڈ اثاثوں کی 0.5 فیصد رقم تھی۔

خواجہ آصف نے سپریم کورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف کی مدت بطور کابینہ ممبر کا ریکارڈ جمع کروایا ہے اور ان کا حلف بطور وزیر دیکھ لیا جائے۔

وکیل نے کہا کہ حلف یہ اٹھایا کہ وہ ذاتی مفاد کو خاطر میں نہیں لائیں گے لیکن وہ وزیر ہوتے ہوئے بیرون ملک ملازم بھی رہے ۔