43

مردانہ گنج پن کا تعلق خراب ہاضمے سے بھی ہے: تحقیق

دنیا بھر میں بالوں کا جھڑنا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، اور مردوں میں یہ صرف ظاہری ہی نہیں، بلکہ نفسیاتی دباؤ کا بھی باعث بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ مردانہ گنج پن کی ایک بڑی اور نظر انداز کی جانے والی وجہ آنتوں کی خراب صحت ہو سکتی ہے۔

بھارتی ادارے ’ترایا ہیلتھ‘ کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں دسمبر 2024ء اور دسمبر 2025ء کے دوران بھارت کے 10 مختلف علاقوں سے 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد مردوں کے صحت سے متعلق خود فراہم کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ ان علاقوں میں مہاراشٹر، اتر پردیش، دہلی این سی آر، تلنگانہ، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، گجرات اور تمل ناڈو شامل تھے۔

ماہرین نے آنتوں کی صحت کا تجزیہ کرنے کے لیے قبض کی شکایات کو بنیادی پیمانہ بنایا۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ 2025ء میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم مردوں نے بہتر نظامِ ہاضمہ کی اطلاع دی۔ شہری اور مصروف علاقوں میں آنتوں کی صحت زیادہ تیزی سے خراب ہوئی، اور تلنگانہ میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ اس کے بعد راجستھان اور دہلی این سی آر کا نمبر آیا۔

ماہرین کے مطابق جدید طرزِ زندگی، جیسے فاسٹ اور پراسیسڈ خوراک، بے ترتیب کھانے کے اوقات، پانی کی کمی، اور ذہنی دباؤ میں اضافہ، اس رجحان کی بڑی وجوہات ہیں۔

تحقیق کے مطابق، آنتیں جسم میں پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامن بی جذب کرتی ہیں جو بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ جب نظامِ ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، تو غذائی اجزاء بالوں کی جڑوں تک نہیں پہنچ پاتے، جس کی وجہ سے بالوں کا گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ آنتوں کی خرابی جسم میں سوزش پیدا کرتی ہے، جو بالوں کی قبل از وقت جڑوں کی کمزوری اور جھڑنے کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بالوں کا گرنا صرف ایک ظاہری مسئلہ نہیں، بلکہ یہ جسم کے اندرونی مسائل کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اس تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ بالوں کے علاج کے ساتھ ساتھ آنتوں کی صحت، غذائیت، ہارمونز اور ذہنی دباؤ کو بھی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ اس مسئلے کو درست طریقے سے حل کیا جا سکے۔

اس تحقیق نے یہ واضح کر دیا کہ مردانہ گنج پن کی وجوہات صرف جینیات یا ماحولیاتی عوامل تک محدود نہیں ہیں، بلکہ آنتوں کی صحت بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے جس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔