4

بھارت چھوڑنے کے نوٹس پر عمران خان کو عارضی ریلیف مل گیا

بمبئی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بھارت چھوڑنے سے متعلق جاری فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کا نوٹس آئندہ سماعت تک معطل کردیا ہے، جس کے بعد اداکار کو عارضی ریلیف مل گیا۔

رپورٹس کے مطابق اداکار عمران خان امریکی شہری اور اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہولڈر ہیں۔ وہ معروف اداکار عامر خان کے بھانجے ہیں اور انہیں بھارتی حکام کی جانب سے ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مہیش چندرا ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے مقدمے کی مختصر سماعت کی۔ اس دوران مرکزی حکومت کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ کیس کی مزید سماعت 2 نومبر تک ملتوی کردی جائے۔

عدالت میں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سنگھ نے زبانی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اداکار کے سینئر وکیل وینکٹیش دھونڈ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آر آر او کے حکم کے مطابق انہیں اگلے ہی روز بھارت چھوڑنا تھا۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

عمران خان کے خلاف معاملہ 10 اکتوبر کو اس وقت سامنے آیا جب ممبئی پولیس نے انہیں اگست کرانتی میدان کے قریب ایک احتجاج کے دوران حراست میں لیا۔ احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق عمران خان کے ساتھ ان کی پارٹنر لیکھا واشنگٹن اور کزن زین میری خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

بعد ازاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کرٹ سومیا نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ عمران خان بھارتی شہری نہیں بلکہ امریکی شہری ہیں، لہٰذا ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

شکایت کے بعد پولیس نے معاملہ ایف آر آر او کو بھیج دیا، جس کے نتیجے میں اداکار کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا گیا۔

اگلی سماعت 2 نومبر کو ہوگی

بمبئی ہائی کورٹ نے نوٹس کو آئندہ سماعت تک معطل کردیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت پیر، 2 نومبر کو سہ پہر 3 بجے مقرر کی گئی ہے۔

عدالت میں کارروائی کے دوران حکومتی وکیل کی یقین دہانی کے بعد عمران خان کو اگلی سماعت تک عارضی ریلیف حاصل ہوگیا ہے۔ مقدمے کے حتمی فیصلے اور نوٹس کی قانونی حیثیت سے متعلق مزید پیش رفت آئندہ سماعت پر سامنے آئے گی۔