خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران صوبائی مشیرِ قانون نے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال اور ایمرجنسی کے باعث 12 اضلاع میں انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی ہے۔
پانچ رکنی بینچ کی سماعت: چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ ماہ 19 ستمبر کو خیبرپختونخوا حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کرنے کی واضح ہدایت دی گئی تھی، تاہم صوبے میں تاحال قانون سازی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے۔
انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ: سماعت کے دوران مؤقف اختیار کیا گیا کہ جن اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، وہاں انتخابات کرانے کا حکم دیا جانا چاہیے۔ مطالبات کے مطابق 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، اس لیے کم از کم 16 اضلاع میں فوری طور پر انتخابی شیڈول جاری کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر کے ریمارکس: چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے حلقوں میں آبادی کا حجم بڑھا دیا ہے، اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب آبادی کی حد کم کی جائے یا یونین کونسلز کی حدود کو تبدیل کیا جائے۔ فریقین کے تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔









