4

سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر حوثیوں کے میزائل حملے کا دعویٰ

یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ریفائنری کے قریب آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ واقعے کے بعد خطے میں تیل کی فراہمی اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے منگل کو دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع راس تنورہ ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کمپلیکس میں آگ لگ گئی۔

راس تنورہ ریفائنری خلیج کے ساحل پر آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع ہے اور اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے۔ یہ سعودی عرب کی توانائی کی صنعت اور خام تیل کی ترسیل کے اہم مراکز میں شامل ہے۔

سعودی حکام نے حوثیوں کے حملے کے دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی، تاہم اطلاعات کے مطابق ریفائنری کے قریب آئل ٹرمینل کے علاقے میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔

سعودی فوجی تنصیبات پر حملوں کے دعوے بھی سامنے آگئے

حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر نجران کے ہوائی اڈے پر دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ان دعوؤں کی بھی سعودی حکام کی جانب سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب سعودی دارالحکومت ریاض میں منگل کی سہ پہر مختصر وقت کیلئے فضائی خطرے کا انتباہ جاری کیا گیا۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے مطابق ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کردیا گیا۔

باب المندب اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش

حوثیوں نے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کیلئے اہم گزرگاہ ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے بھی عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

ان اہم سمندری راستوں پر کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ راس تنورہ ریفائنری اور آئل ٹرمینل پر کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات سعودی عرب کی تیل کی پیداوار، برآمدات اور عالمی توانائی کی منڈی پر پڑ سکتے ہیں۔

حوثیوں سے وابستہ ذرائع نے یمن کے شہر المخا پر سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات بھی دی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتی کوششیں

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پیر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، علاقائی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصوں پر قابض ہیں۔ حالیہ لڑائی نے سرحد پار حملوں اور علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

راس تنورہ ریفائنری پر حملے سے متعلق حوثیوں کے دعوے کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے آنا باقی ہے، تاہم ریفائنری کے قریب آگ لگنے کی اطلاعات اور خطے میں مسلسل حملوں نے توانائی کی عالمی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔