سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی سلامتی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں توانائی کی فراہمی اور خام تیل کی پیداوار و ترسیل کے متبادل انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان ایک روز قبل تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب خطے میں سلامتی اور استحکام کے قیام کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال زیرِ غور
سعودی کابینہ کے اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث خام تیل کی پیداوار اور ترسیل کو درپیش مشکلات پر بھی گفتگو کی گئی۔
بیان کے مطابق توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کیلئے نئے انتظامات اور متبادل امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم سمندری راستے ہیں، اس لیے ان میں رکاوٹیں خطے اور عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے حکام کی ملاقاتیں
یاد رہے کہ پیر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، علاقائی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ان کی ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی ملاقات ہوئی۔
خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات کے تناظر میں ان سفارتی رابطوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کے تمام نتائج اور آئندہ اقدامات کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔









