3

زیادتی جیسے جرائم میں ملوث افراد رعایت کے مستحق نہیں، پشاور ہائی کورٹ

پشاور ہائیکورٹ نے 7 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم اختر حسین کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی تین بار پھانسی کی سزا برقرار رکھی ہے۔

جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ ریپ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، بالخصوص جب جرم کا شکار کم سن بچہ ہو۔

عدالت کے مطابق ملزم نے 2020 میں 7 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا تھا۔ ماتحت عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے تین بار سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف ملزم نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔

34 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ معمولی تکنیکی خامیوں کی بنیاد پر ایسے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو بری نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قانون پر مؤثر عمل درآمد ہی ایسے جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ معاشرے میں بچوں کا تحفظ یقینی بنانا ریاست اور قانون کی ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے ملزم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے تین بار سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔