4

ایرانی معیشت کو کمزور کرنے کی امریکی کوشش ناکام رہی: عباس عراقچی

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ ایرانیوں کو غریب کرنے اور ایرانی معیشت کو تباہ کرنے کی خواہش پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم ان کے بقول امریکا خود بے بس اور بے نقاب کھڑا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ عالمی سطح پر امریکی مالیاتی نظام پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی قرضوں کی فنڈنگ کی لاگت سے متعلق بحران صرف شروعات ہے۔

امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں اور دیگر اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کے دائرے میں 36 تجارتی و نجی ایئر لائنز اور غیر ملکی کمپنیاں شامل ہیں جو کارگو خدمات فراہم کرتی ہیں، جن میں ماہان ایئر بھی شامل ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد ایسے افراد اور اداروں کو خبردار کرنا ہے جو ایرانی ایئر لائنز کے ساتھ لین دین کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں عالمی مالیاتی نظام سے کٹنے کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق امریکی دعویٰ

دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں کو تاریخی نقصان پہنچا ہے۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر امریکا کو مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو پہنچنے والا نقصان غیر معمولی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے پاس ایران کے حوالے سے متعدد آپشنز موجود ہیں اور جنگ کے اگلے مرحلے سے متعلق فیصلہ امریکا اپنے مفادات کے مطابق کرے گا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی کارروائیوں کے دوران ایران کے بیلسٹک میزائل، ڈرون اور بحری دفاعی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی فوج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو پہنچنے والے بڑے نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں معاشی پابندیاں، فوجی دباؤ اور باہمی جوابی اقدامات اہم عوامل ہیں، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے اقدامات پر سخت ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔