7

نئے صوبوں کے قیام کی بحث

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کا تنازع ملکی تاریخ کے مختلف ادوار میں زیرِ بحث رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق نئے صوبے بنانا انتظامی مسائل کا پائیدار حل نہیں بلکہ اصل ضرورت نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور بااختیار بلدیاتی نظام کا نفاذ ہے۔

بین الاقوامی موازنے کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت میں ریاستوں کی تشکیل آبادی کے بجائے لسانی و ثقافتی بنیادوں پر ہوئی، جہاں اتر پردیش اور مغربی بنگال جیسی کروڑوں آبادی والی ریاستیں آج بھی تقسیم نہیں ہوئیں۔ اسی طرح ترکیہ میں 81 صوبوں کا قیام اور جرمنی کی 16 خودمختار ریاستوں کی ترقی دراصل شفاف طرزِ حکمرانی اور مضبوط مقامی انتظام کا نتیجہ ہے، نہ کہ محض جغرافیائی تقسیم کا۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وسائل، آمدن، پانی کی منصفانہ تقسیم، سرحدوں کے تعین اور قومی شناخت جیسے سنگین سوالات تاحال تشنہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بنیادی کاموں کے لیے لاہور یا کراچی جیسے دارالحکومتوں کا رخ اس لیے کرنا پڑتا ہے کیونکہ تحصیل اور ضلعی سطح پر ادارے بااختیار نہیں ہیں۔

حقیقی حل نئے انتظامی ڈھانچے اور صوبائی عہدوں میں اضافے کے بجائے مقامی حکومتوں کو فعال کرنے میں مضمر ہے۔ لندن اور نیویارک کی طرز پر جب تک یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح پر منتخب بلدیاتی نمائندوں کو مالی و انتظامی اختیارات نہیں ملیں گے، تب تک محض نئے صوبے بنانے سے گورننس کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔