کیلیفورنیا (ٹیکنالوجی ڈیسک): معروف ارب پتی اور ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سال 2027 کے اختتام تک ڈیجیٹل دنیا کے تقریباً ہر کام کو سپر ہیومن سطح پر انسانوں سے زیادہ مؤثر انداز میں انجام دینے کے قابل ہو سکتی ہے۔
ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ غیر معمولی پیش رفت بنیادی طور پر ڈیجیٹل شعبے تک محدود رہے گی، جس کا مطلب فوری طور پر حقیقی دنیا کے تمام جسمانی کاموں پر تسلط حاصل کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے سابقہ مؤقف کا حوالہ بھی دیا کہ مستقبل میں اے آئی ہیکنگ کے شعبے میں انسانوں پر سبقت لے جائے گی۔
یہ پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی ایجنٹس کی سائبر سکیورٹی اور خودمختار رویوں سے متعلق تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور میٹا نے داخلی جانچ کے دوران اے آئی ماڈلز کے غیر متوقع رویوں اور خودکار رابطوں کی رپورٹس دی ہیں جن میں سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں، تاہم ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کے انسانوں کے ماتحت رہنے اور اس کے حتمی اثرات پر بحث بدستور جاری ہے۔








