پاکستان اور ملائیشیا نے سزایافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کردیے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتو سری سیف الدین نسوتیون اسماعیل نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور ملائیشیا کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے بالخصوص سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں کی ملائیشیا کی جانب سے حمایت کو سراہا۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے میں اپنے ملک کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
سزایافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سزایافتہ افراد کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔
معاہدے پر ملائیشیا کے وزیر داخلہ داتو سری سیف الدین نسوتیون اسماعیل اور وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے دستخط کیے۔
حکام کے مطابق معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تعاون کو فروغ دینے اور متعلقہ معاملات میں رابطہ مزید بہتر بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ملائیشین وزیر داخلہ کی آرمی چیف سے ملاقات
دوسری جانب ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے پاکستان اور ملائیشیا کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملائیشیا کے ساتھ دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔









