4

امریکا ایران کشیدگی کا اثر، عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہوگیا

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے روز 3 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے اکتوبر ڈلیوری کے سودے 45 سینٹ یا 0.49 فیصد اضافے کے بعد 91.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 45 سینٹ یا 0.53 فیصد اضافے کے بعد 85.39 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

بعد ازاں کاروباری دن کے اختتام تک برینٹ خام تیل کی قیمت مزید بڑھ کر 91.56 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی تقریباً 85.53 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کب معمول پر آتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا حجم اب بھی معمول کی سطح سے خاصا کم ہے اور متعدد جہاز مالکان خطے میں موجود خطرات کے باعث اس اہم بحری راستے سے گریز کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تیل کمپنیوں پر زیادہ منافع کمانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے، تاہم پیٹرولیم کمپنیوں نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اور امریکا ایران تعلقات میں مزید کشیدگی عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو برقرار رکھ سکتی ہے۔